حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 278 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 278

278 296- حَدَّثَنَا أَبُو الجُوَيْرِيَةِ، أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِى، وَخَطَبَ عَلَى، فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ، كَانَ أَبِي يَزِيدُ أَخْرَجَ دَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي المَسْجِدِ، فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُهُ بِمَا فَقَالَ وَاللهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَكَ ما نويت يا يَزِيدُ، وَلكَ مَا أَخَذْتَ يَا مَعْن (بخاری کتاب الزكوة باب اذا تصدق على ابنه و هو لا يشعر 1422) حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا (کہ) رسول اللہ صلی علیم سے میں نے اور میرے باپ (حضرت یزید ) اور میرے دادا ( حضرت انس بن حبیب ) نے بیعت کی اور آپ نے میرا رشتہ تجویز کیا اور نکاح پڑھایا اور میں آپ کے پاس ایک مقدمہ لے کر گیا۔میرے باپ حضرت یزید نے کچھ اشرفیاں خیرات کرنے کے لئے نکالیں اور مسجد میں ایک آدمی کے پاس رکھ دیں۔میں اس کے پاس آیا اور میں نے وہ اشرفیاں لے لیں اور اپنے باپ کے پاس لے آیا۔انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میں تجھے دینا نہیں چاہتا تھا۔آخر میں نے ان کے خلاف رسول اللہ صلی علیم کے پاس یہ قضیہ پیش کیا۔آپ نے فرمایا یزید ! تیرے لئے وہی ہے جس کی تو نے نیت کی اور معن ! تیرے لئے ہے جو تو نے لے لیا۔297 - عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِي، قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَرْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، يُدعَى: ابْنَ الْأُنْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلًا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ، وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ