حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 275 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 275

275 يقبلها۔فَلَهَا وَلِيَ عُمَرُ أَتَاهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْبَلُ صَدَقَنِي، فَقَالَ لَمْ يَقْبَلُهَا مِنْكَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ولا أبو بَكْرٍ، أَنَا أَقْبَلُهَا ؟ فَقُبِضَ وَلَمْ يَقْبَلُهَا ثُمَّ وَلِي عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ أَنْ يَقْبَلَ صَدَقَتَهُ، فَقَالَ لَمْ يَقْبَلْهَا رَسُولُ اللَّهِ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلا عُمَرُ، أَنَا أَقْبَلُهَا ؟ وَلَمْ يَقْبَلُهَا۔وَهَلَكَ ثَعْلَبَةُ في خلافة عثمان رضی اللہ عنہ (اسد الغابة ، باب الثاء مع الراء ومع العين (صحابی نمبر (590) ثعلبه بن حاطب جلد 1 صفحه 463) حضرت ابو امامہ باہلی بیان کرتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور ! میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال و دولت سے نوازے۔حضور نے فرمایا ثعلبہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تو یہ چاہتا ہے۔تھوڑے مال پر شکر ادا کر نازیادہ مال پر شکر ادا کرنے سے آسان ہو تا ہے۔کچھ عرصہ بعد ثعلبہ دوبارہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور مال و دولت کے لئے دعا کی درخواست کی۔اس پر حضور نے فرمایا کیا تجھے میرا اسوہ پسند نہیں؟ خدا کی قسم ! اگر میں پہاڑ کو کہوں کہ وہ میرے لئے سونے چاندی کا بن جائے تو ایسا ہی ہو ( تم اس قسم کی درخواست نہ کیا کرو اور جس طرح میں قناعت اور کفایت شعاری کی زندگی بسر کرتا ہوں تم بھی بسر کرو) اس کے کچھ عرصہ بعد ثعلبہ پھر حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے مالدار کر دے اور کہا خدا کی قسم جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے اگر میں مال دار ہو گیا تو ہر حقدار کا حق ادا کروں گا۔حضور علیہ السلام نے جب دیکھا کہ یہ بار بار آکر دعا کی درخواست کرتا ہے تو آپ نے اس کے لئے دعا کی کہ اے اللہ ! تعلبہ کو مال دار کر دے۔اے اللہ تعلبہ کو دولت مند بنادے۔حضور علیہ السلام کی دعا کے بعد ثعلبہ نے کچھ بکریاں خریدیں اور ان بکریوں نے اس قدر بچے دیئے اور وہ اس تیزی سے بڑھے جیسے برسات کے کیڑے مکوڑے بڑھتے ہیں۔شروع شروع میں تعلبہ ظہر کی نمازیں حضور کے ساتھ ادا کر تا اور بقیہ نمازیں وہ اپنے ریوڑ میں پڑھنے لگا۔اس کے بعد جب اس کے بہت سے ریوڑ ہو گئے تو صرف نماز جمعہ کے لئے وہ آنے لگا لیکن جب اس کے ریوڑ اور زیادہ ہو گئے تو صرف نماز جمعہ کے لئے وہ آنے لگالیکن جب اس کے ریوڑ اور زیادہ ہو گئے تو نماز جمعہ کے لئے بھی آنا ترک کر دیا۔حضور علیہ السلام بالعموم جمعہ کے دن