حدیقۃ الصالحین — Page 271
271 دے تو وہ چل پڑے گا۔(اس کے کچھ عرصہ بعد ثعلبہ پھر حاضر ہوا) اور کہا یار سول اللہ ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مالدار کر دے اور کہا اس کی قسم جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے اگر اللہ نے مجھے مال عطاء فرمایا تو میں ہر حقدار کا حق ادا کروں گا۔آپ نے فرمایا ثعلبہ ! تیر ابھلا ہو، تھوڑا جس پر تو شکر ادا کرتا ہے (اس) زیادہ مال سے بہتر ہے (جس پر رشک کرنے کی تجھے طاقت نہ ہو۔اس نے کہا یار سول اللہ ! اللہ سے دعا کیجیے۔آپ نے اس کے لیے دعا کی اے اللہ ! ثعلبہ کو مال دار کر دے۔(حضور علیہ السلام کی دعا کے بعد ) ثعلبہ نے کچھ بکریاں خریدیں۔اس کے لیے اس میں برکت دی گئی اور وہ (اس تیزی سے ) بڑھے جیسے (برسات کے ) کیڑے مکوڑے بڑھتے ہیں۔اس کی وجہ سے مدینہ کی گلیاں تنگ پڑ گئیں تو وہ ان کو لیکر علیحدہ ہو گیا۔وہ دن کے وقت رسول اللہ صلی علی کریم کے ساتھ نماز پڑھتا مگر رات کی نماز میں نہ آتا۔پھر جب وہ اور بڑھ گئیں تو نہ رات کی نماز میں آتا نہ دن کی نماز میں۔مگر جمعہ کے جمعہ رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ ( نماز پڑھنے کے لیے حاضر ہو تا۔پھر وہ اور بڑھ گئیں اور اسکی (وہ) جگہ بھی تنگ پڑ گئی تو وہ اور دور چلا گیا۔اور اب نہ وہ جمعہ کے لیے آتا نہ کسی جنازہ کے لیے رسول اللہ صلی اللی نیلم کے ساتھ حاضر ہو تا۔رسول اللہ صلی اللا علم لوگوں سے ملتے اور ان سے حال احوال پوچھتے۔رسول اللہ صلی علیم نے اس ( ثعلبہ ) کو غائب پایا تو اس کے متعلق دریافت کیا۔لوگوں نے آپ کو بتایا کہ اس نے بکریاں خریدیں اور مدینہ ان سے بھر گیا اور اس کے بارہ میں سب کچھ بتایا۔رسول اللہ صلی ال یکم نے فرمایا تعلبہ بن حاطب کا بھلا ہو۔پھر اللہ نے اپنے رسول کو زکوۃ لینے کا حکم فرمایا اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی خُذ من أَمْوَالهم صدقة ( ان کے مالوں سے زکاۃ لیں )۔رسول اللہ صلی علی کریم نے دو شخص ، ایک جہینہ میں سے اور ایک بنو سلمہ میں سے صدقات لینے کیلے بھجوائے۔اور ان دونوں کو اونٹوں اور بکریوں کی عمروں وغیرہ کے متعلق لکھ کر دیا کہ کیسے زکاۃ وصول کرنی ہے اور انہیں کہا کہ وہ ثعلبہ بن حاطب اور بنو سلیم کے ایک شخص کے پاس جائیں۔وہ دونوں ( محصل) ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے زکاۃ کا مطالبہ کیا۔اس نے کہا مجھے اپنا حکم نامہ دکھائیں۔اس نے اس کو دیکھا تو کہنے لگا یہ تو جزیہ ہے۔اچھا جاؤ فارغ ہو کر واپسی پر یہاں سے ہوتے جانا۔وہ دونوں ( محصل یہ سن کر) چلے گئے اور دوسرے شخص سلمی کی طرف گئے (جب سلمی کو ان