حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 272 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 272

272 محصلوں کے آنے کا علم ہوا) تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے اعلیٰ اونٹ چن کر صدقات کے لئے نکالے اور انہیں محصلین کے پاس لایا۔(جب محصلوں نے ان جانوروں کو دیکھا تو) کہا کہ (اس طرح کے قیمتی اور عمدہ جانور لینے کا ہمیں حکم تو نہیں ) اس کے علاوہ آپ پر لازم ہیں۔( یہ سُن کر سلمی ) کہنے لگا میں تو اللہ کا قرب اپنے بہتر مال سے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے اس سے لے لیا۔وہ دونوں ( محصل اور لوگوں سے صدقات وصول کرنے کے بعد ) ثعلبہ کے پاس (دوبارہ) آئے تو ثعلبہ نے کہا مجھے اپنا حکم نامہ دکھاؤ۔اس نے اسے دیکھا اور کہا یہ تو محض جزیہ ہے، تم چلے جاؤ یہاں تک کہ میں کوئی رائے قائم کروں۔وہ دونوں چلے گئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔جب ان دونوں کو رسول اللہ صلی علیم نے دیکھا تو قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتے آپ نے فرمایا ثعلبہ پر افسوس راسلمی کے لیے برکت کی دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ (التوبة 75-76) کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ انہیں مال دے گا تو وہ تمام حقوق ادا کریں گے لیکن بعد میں جب انہیں اللہ نے مال دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا اور وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے۔آپ کی مجلس میں ثعلبہ کا ایک عزیز ( کبھی بیٹھا ہوا تھا جو ) تمام باتیں سُن رہا تھا۔اس نے جاکر ثعلبہ کو ساری صورت حال بتائی اور بڑے افسوس کا اظہار کیا اور کہا تمہارابر اہو۔تمہارے بارہ میں تو قرآن کریم نازل ہوا ہے ( یہ سُن کر ثعلبہ بہت پچھتایا اور صدقات لے کر رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور کہا یہ میرے مال کی زکاۃ ہے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ نے مجھے تم سے (زکاۃ) وصول کرنے سے منع فرمایا ہے۔راوی کہتے ہیں اس نے رونا شروع کر دیا اور اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے ، میں نے تمہیں سمجھایا تھا مگر تم نے میری بات نہ مانی۔رسول اللہ صلی الیکم نے اس سے (مال زکاۃ) وصول نہ کیا یہاں تک کہ آپ وفات پاگئے۔پھر وہ حضرت ابو بکر کے پاس صدقات لے کر حاضر ہوا۔اور کہا اے ابو بکر مجھ سے (مال) زکاۃ قبول کریں اور آپ انصار میں میرے مقام کو جانتے ہیں۔حضرت ابو بکڑ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب