حدیقۃ الصالحین — Page 262
262 مروان بن سالم المقفع بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اور جو ہتھیلی سے زائد ہوتی اس کو کاٹ ڈالتے اور فرماتے کہ جب رسول اللہ صلی ا نام روزہ افطار کرتے تو فرماتے ذهب الظمأ وابتلت العرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُانْ هَاءَ اللهُ "پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور اجر ثابت ہو گیا انشاء اللہ۔283 ـ عَنْ مَالِكَ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا، وَهِيَ صَائِمَةٌ، وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلَّا رَغِيفٌ، فَقَالَتْ لِمَوْلَاةٍ لَهَا: أَعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَعْطِيهِ إِيَّاهُ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، قَالَتْ: فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ أَوْ إِنْسَانُ مَا كَانَ يُهْدِى لَنَا شَاةً وَكَفْنَهَا، فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أَمْ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ كُلى مِنْ هَذَا، هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ (موطا امام مالک ، کتاب الصدقة باب الترغيب في الصدقة 1878) نبی صلی ال نیلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ان سے ایک غریب عورت نے سوال کیا۔اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں سوائے ایک روٹی کے کچھ نہ تھا۔آپ نے اپنی خادمہ سے کہا کہ وہ روٹی اس (غریب عورت) کو دے دے۔وہ (خادمہ) کہنے لگی کہ آپ کے لئے کوئی اور چیز تو موجود نہیں۔آپ کس چیز سے روزہ افطار کریں گی۔حضرت عائشہ نے اس خادمہ سے کہا کہ تم وہ روٹی اس (غریب عورت ) کو دے دو۔وہ (خادمہ) کہتی ہے کہ میں نے وہ روٹی اس غریب عورت کو) دے دی۔جب شام ہوئی تو آپ کے پاس کسی عزیز نے یا کسی اور شخص نے بکری کا کچھ گوشت اور اس کا باز و بطور تحفہ بھیج دیا۔آپ نے اس خادمہ کو (بلا کر ) فرما یالو کھاؤ یہ تمہاری روٹی سے (کہیں) بہتر ہے۔