حدیقۃ الصالحین — Page 258
258 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنانہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں کہ ایسا شخص کھانا اور پینا چھوڑ دے۔273- عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ، مَوْلَى التَّيْمِنِينَ: أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَخُلِقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ (بخاری کتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان 1899) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔طَلْحَة بْنِ 274- حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ عُبَيْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا باليمن والإيمان والسَّلَامَةِ وَالإِسْلامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ الله (ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول عند روية الهلال 3451) حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی للی یکم جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے ”اے اللہ ! یہ چاند امن و امان اور صحت و سلامتی کے ساتھ ( ہر روز ) نکلے۔اے چاند میر ارب اور تیر ارب اللہ تعالیٰ ہے تو خیر و برکت اور رشد و بھلائی کا چاند بن “۔