حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 243 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 243

243 جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں مگر وہ صدقہ دیتے ہیں ہم صدقہ نہیں دیتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی بات نہ سکھاؤں جس کے ذریعہ تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پالو گے اور اپنے سے بعد والوں سے آگے رہو گے اور کوئی تم سے آگے نہیں بڑھ سکے گا سوائے اس کے کہ وہ ایسا ہی کرے جیسا تم کرو۔انہوں نے عرض کیا ضرور یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا ہر نماز کے بعد تم تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو گے اللہ اکبر کہو گے اور الحمد للہ کہو گے۔(راوی) ابو صالح کہتے ہیں کہ غریب مہاجر پھر رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں دوبارہ آئے اور عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی سن لیا ہے۔وہ بھی ویسا ہی کرنے لگ گئے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی ال نیلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔244 ـ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِها عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلاَ تَسَلُ عَنْ حُسْنِينَ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلا تَسَلُ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاقًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَاهُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي (بخاری کتاب صلاة التراويح باب فضل من قام رمضان 2013) ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی علیکم کی نماز رمضان میں کیسی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ رمضان میں اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت نماز سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔چار رکعتیں پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔پھر چار رکعت پڑھتے اور ان کی خوبی اور لمبائی کے متعلق نہ پوچھ۔پھر تین رکعتیں پڑھتے۔میں نے (ایک بار آپ سے ) عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا عائشہ میری آنکھیں تو سوتی ہیں اور میر اول نہیں سوتا۔