حدیقۃ الصالحین — Page 241
241 240- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا زَادَ وَإِمَّا نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَإِنمَّا جَاءَ نِسْيَانُ ذَلِكَ مِنْ قِبَلِي - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْنَا صَلَّيْتَ قَبْلُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَحَوَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند عبد الله بن مسعود (4032) حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے ہمیں نماز پڑھائی۔نماز میں ہم نے محسوس کیا کہ کوئی کمی بیشی ہوئی ہے۔نماز کے بعد ہم نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! نماز کے بارہ میں کوئی نئی ہدایت نازل ہوئی ہے ؟ حضور نے فرمایا کیا بات ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور نے ابھی اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔آپ نے فرمایا میں بھی انسان ہوں جس طرح تم بھولتے ہو۔اسی طرح میں بھی بھول سکتا ہوں۔جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دو سجدے سہو کرے پھر آپ نے قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے۔241 ـ عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا وَقَالَ اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِي كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ ؟ قَالَ تَقُولُ أَسْتَغْفِرُ اللهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ (مسلم کتاب المساجد باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته923) حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللملم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے نیز کہتے اے اللہ ! تو سلام ہے اور سلامتی کا منبع ہے۔اے جلال اور عزت والے ! تو بہت برکت والا ہے۔ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ استغفار کیسے کرتے ؟ انہوں نے کہا تم کہتے ہو استغفر الله استغفر اللہ۔