حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 240 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 240

240 239۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ فِي حَدِيثِ وَكِيعٌ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ كَى لَا يُخْرِجَ أَمَتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةٌ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ ما أراد إلى ذلك ؟ قَالَ أَرَادَ أَنْ لا يُخرج أُمَّتَهُ (مسلم کتاب صلاة المسافرين باب الجمع بين الصلاتين في الحضر (1143) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال نیلم نے مدینہ میں ظہر اور عصر نیز مغرب اور عشاء بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کر کے پڑھیں۔وکیع کی روایت میں ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ آپ صلی علیکم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا تا کہ آپ اپنی امت پر کوئی تنگی نہ ڈالیں۔ابو معاویہ کی روایت میں (لِمَ فَعَلَ ذَالِک کے بجائے) ما أراد إلى ذَالِک کے الفاظ ہیں۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُخْرِجَ أُمَّتَهُ (ابو داؤد کتاب صلاة السفر باب الجمع بين الصلاتين (1211) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء مدینہ میں بغیر خوف اور بارش کے جمع کیں۔حضرت ابن عباس سے کہا گیا آپ کی اس سے کیا منشاء تھی۔انہوں نے کہا کہ آپ نے چاہا کہ آپ اپنی امت کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔