حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 239 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 239

239 يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ، قَالَ لَوْ كُنْتُ مُسَبْعًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي، يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (مسلم کتاب صلاة المسافرين باب صلاة المسافرین و قصرها 1104) عیسی بن حفص بن عاصم بن حضرت عمر بن خطاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے رستہ میں میں حضرت ابن عمرؓ کے ساتھ تھا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ظہر دور کعتیں پڑھائیں پھر ان کی نظر پڑی جہاں انہوں نے نماز پڑھائی تھی۔پھر وہ آگے بڑھے تو ہم بھی ان کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ وہ اپنے پڑاؤ پر پہنچ گئے۔وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔پھر انہوں نے کچھ لوگوں کو کھڑے دیکھا تو پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے بتایا کہ یہ نوافل پڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر میں نے نوافل (غالباً سنتیں ) پڑھنے ہوتے تو ضرور اپنی نماز پوری پڑھتا۔اے میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللی کام کے ہمراہ سفر میں رہا ہوں۔آپ نے کبھی دور کعت سے زائد نہیں پڑھیں یہانتک کہ اللہ نے آپ کو وفات دے دی۔میں حضرت ابو بکر کے ساتھ رہا۔انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد ( نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔میں حضرت عمر کے ساتھ بھی رہا۔انہوں نے دور کعت سے زائد ( نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی۔پھر میں حضرت عثمان کے ساتھ بھی رہا۔انہوں نے بھی دور کعت سے زائد رکعتیں (نہیں پڑھیں) یہانتک کہ اللہ نے ان کو وفات دے دی اور اللہ فرما چکا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (احزاب 22) یقینا اللہ کے رسول صلی المیہ کی میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے۔