حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 230 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 230

230 حضرت حرام نے عرض کیا اے اللہ کے نبی میرا ارادہ اپنے باغیچہ کو پانی دینے کا تھا لیکن چونکہ نماز کا وقت تھا) اس لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد آیا کہ پہلے نماز پڑھ لوں پھر باغیچہ کو پانی دوں گا) جب معاذ نے نماز بہت لمبی کر دی تو میں نے خود ہی نماز مختصر کر کے پڑھ لی۔اس پر معاذ نے مجھے طعنہ دیا کہ میں منافق ہوں۔نبی صلی الیکم ( حضرت حرام کی یہ شکایت سن کر ) معاذ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ؟ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ؟ لوگوں کو لمبی نماز نہ پڑھاؤ بلکہ سیخ اسم ريك الأعلى اور الشَّمْيس ومعاها اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرو۔226۔عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِي، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ وَاتُكُلَ أَمِيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ ؟ تَنْظُرُونَ إِلَى، فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمْتُونَنِي لكِنِي سَكَتُ، فَلَهَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأَقِي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِمَا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ، مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ ، وَإِنَّ مِنَا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَانَ، قَالَ فَلَا تَأْتِهِمْ قَالَ وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ ذَاكَ شَيْءٍ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّتَهُمْ (مسلم کتاب المساجد باب تحريم الكلام فى الصلاة و نسخ ما كان من اباحته 828) حضرت معاویہ بن حکم اسلیمی نے بیان کیا کہ اس اثناء میں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے کسی شخص نے چھینک ماری۔اس پر میں نے پر حمک اللہ کہا کہ اللہ تجھ پر رحم کرے۔تولوگ مجھے گھورنے لگے۔میں نے کہا میری ماں مجھے کھوئے تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ مجھے دیکھنے لگے ہو ؟ اس پر وہ اپنے ہاتھ