حدیقۃ الصالحین — Page 231
231 اپنی رانوں پر مارنے لگے۔جب میں نے انہیں دیکھا کہ مجھے خاموش کرارہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔جب رسول اللہ صلی علیم نے نماز پڑھ لی۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ سے بہتر معلم نہ تو آپ سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ آپ کے بعد۔خدا کی قسم !نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا اور نہ مجھے مارانہ مجھے برا بھلا کہا صرف سیہ) فرمایا یہ نماز ہے اس میں کوئی انسانی کلام مناسب نہیں یہ تو صرف تسبیح ، تکبیر اور قرآن کی قراءت ہے یا جیسے رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا میں نے عرض کیا کہ یارسول صلی علیکم اللہ ! میں جاہلیت کے زمانہ سے نیا نیا آیا ہوں اور یقیناً اب اللہ ( دین ) اسلام کو لایا ہے اور ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ ان کے پاس مت جاؤ۔اس نے کہا کہ ہم میں بعض آدمی ایسے ہیں جو شگون لیتے ہیں آپ نے فرمایا یہ ایک ایسی بات ہے جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں پس یہ ان کے لئے (کوئی) روک نہ بنے۔227- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ المَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ثَلَاثًا ، فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالحَقِ مَا أَحْسِنُ غَيْرَهُ، فَعَلِمْنِي، فَقَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاةِ فَكَبَرُ، ثُمَّ اقْرَأُ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلاتِكَ كُلها بخاری کتاب الاذان باب وجوب القراءة للامام والمأموم في الصلوات كلها (757) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی۔پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔چنانچہ وہ لوٹ گیا۔پھر اس نے اسی طرح ہی نماز پڑھی جس طرح