حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 229 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 229

229 کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ! کیا تم آزمائش میں ڈالنے والے ہو! یہ پڑھا کرو یہ پڑھا کرو۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور الضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى اور سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الأخلی کی تلاوت کیا کرو۔225 - كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُهُ قَوْمَهُ، فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّي مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذَا طَوَّلَ، تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذُ الصَّلَاةَ، قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ۔قَالَ إِنَّهُ لَمُنَافِقُ، أَيَعْجَلُ عَنِ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْي نَخْلِهِ قَالَ فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ عِنْدَهُ، فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخَلًا لِي، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّي مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا طَوَّلَ، تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ، فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ۔فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ أَفَتَانٌ أَنْتَ، أفتان أنت لَا تُطولُ بِهِمُ اقْرَأْ بِسَبْحَ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَهُمَا هَا، وَلَجُوهِمَا (مسند احمد بن حنبل ، مسند المكثرين من الصحابه، مسند انس بن مالک 12272) حضرت معاذ بن جبل اپنے قبیلہ میں نماز پڑھایا کرتے تھے۔حضرت حرام آئے ان کا ارادہ اپنے نخلستان کو پانی دینے کا تھا۔وہ مسجد میں آئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کریں۔جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ نے نماز کو طویل کر دیا ہے تو انہوں نے اپنی نماز مختصر کی اور اپنے باغیچہ میں جا کر پانی دینے لگے۔حضرت معاذ نے جب نماز ختم کی تو انہیں بتایا گیا کہ حضرت حرام مسجد میں آئے جب انہوں نے دیکھا کہ آپ نے نماز لمبی کر دی ہے تو انہوں نے اپنی نماز مختصر کی اور اپنے باغ کو پانی دینے لگے۔حضرت معاذ نے کہا وہ منافق ہے اپنے باغیچہ کو پانی دینے کی غرض سے نماز اس طرح جلدی سے پڑھتا ہے ( یہ کیسی نماز ہے) حضرت حرام کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ نبی صلی یم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت معاذ بھی آپ صلی الی نیم کے پاس بیٹھے تھے۔