حدیقۃ الصالحین — Page 228
228 تم میں سے جو لوگوں کو نماز پڑھائے تو چاہیے کہ وہ نماز مختصر پڑھے۔کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی اور حاجت مند بھی۔224ـ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ مُعَاذُ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي فَيَؤُهُ قَوْمَهُ، فَصَلَّى لَيْلَةٌ مَعَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ أَنَّى قَوْمَهُ فَأَمَّهُمْ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَانْحَرفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى وَحْدَهُ وَانْصَرَفَ فَقَالُوا لَهُ أَنَافَقْتَ؟ يَا فُلَانُ، قَالَ لَا۔وَاللهِ وَلَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأُخْبِرَنَّهُ۔فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِالنَّهَارِ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّى مَعَكَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَى فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَادٍ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَفَتَانُ أَنْتَ ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَاقْرَأْ بِكَذَا قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو، إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ اقْرَأْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَسَبْحِ اسْمَ رَبَّكَ الْأَعْلَى فَقَالَ عَمْرُو لَهُوَ هَذَا (مسلم کتاب الصلاة باب القراة في العشاء 701) حضرت جابر بیان کرتے ہیں حضرت معاذ نبی صلی علیکم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے پھر آکر اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ایک رات انہوں نے نبی صلی ایم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر اپنے لوگوں کے پاس آکر ان کی امامت کی تو اس میں سورہ بقرہ شروع کر دی اس پر ایک آدمی الگ ہو گیا اور سلام پھیرا، اکیلے نماز پڑھی اور جانے لگا۔اس پر لوگوں نے اسے کہا کہ اے فلاں کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ اس پر اس نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم اور میں ضرور رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں جاؤں گا اور ضرور یہ آپ کو بتاؤں گا۔چنانچہ وہ شخص رسول اللہ صلی فیلم کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! ہم پانی لانے والے اونٹ رکھتے ہیں دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذ نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی اور پھر آکر سورہ بقرہ شروع کر دی۔چنانچہ رسول اللہ صلی الی یوم حضرت معاذ