حدیقۃ الصالحین — Page 213
213 197- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أشق على أمتي أو عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسَّوَاكِ مَعَ كُل صَلَاةٍ بخاری کتاب الجمعة باب السواك يوم الجمعة، 887) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اس کا خیال نہ ہو تا کہ میں اپنی امت کو تکلیف میں ڈال دوں گا یا یہ فرمایا کہ اگر لوگوں کی تکلیف کا مجھے خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ضرور ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔198- عَنْ عُرْوَةَ بْنِ المَغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءً قُلْتُ نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفَرَغْتُ عَلَيْهِ الإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَيْهِ، فَقَالَ دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا (بخاری کتاب اللباس باب لبس جبة الصوف في الغز و حديث نمبر 5799) حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات سفر میں میں نبی صلی علیم کے ساتھ تھا آپ صلی بی ایم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی حضور ہے۔چنانچہ آپ صلی علیم سواری سے اترے اور اندھیرے میں اتنی دور گئے جہاں آپ نظر نہیں آتے تھے۔( قضائے حاجت کے بعد ) آپ واپس تشریف لائے اور وضو کرنے لگے۔میں لوٹے سے پانی ڈالنے لگا۔آپ نے اپنا چہرو اور دونوں ہاتھ دھوئے۔آپ پر اونی جبہ تھا۔آپ اس میں سے اپنے بازو نہیں نکال سکتے تھے۔اس لئے آپ صلی بی ایم نے جمعہ کے اندر سے ہاتھ نکال کر انہیں دھویا۔پھر سر کا مسح