حدیقۃ الصالحین — Page 210
210 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی علیکم کے ساتھ تھا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی۔اے اللہ تعالیٰ کے رسول! میں گناہ کا مرتکب ہوا ہوں اور سزا کا مستحق ہوں۔نماز کا وقت ہو چکا تھا اس شخص نے بھی نبی صلی علیم کے ساتھ نماز پڑھی۔جب نبی صلی نیلم نے نماز مکمل فرمائی تو وہ شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں سزا کا مستحق ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ کے مقررہ قانون کے مطابق سزاد یجئے۔آپ صلی ا یہ کلم نے فرمایا کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا جی حضور پڑھی ہے۔آپ مصلای عالم نے فرمایا اس نیکی کی وجہ سے تجھے بخش دیا گیا ہے۔نیکیاں گناہوں کو مٹادیتی ہیں۔193- عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سنينَ وَفَرَّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ (ابو داؤد کتاب الصلاة باب متى يومر الغلام بالصلاة (495) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور جب دس برس کے ہوں ( اور نماز نہ پڑھیں ) تو ان کو سزا دو۔اور ان کے بستر الگ رکھو۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوا صِبْيَانَكُمْ بِالصَّلَاةِ، إِذَا بَلَغُوا سَبْعًا وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا، إِذَا بَلَغُوا عَشْرًا، وَفَرِقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ (مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابة ، مسند عبد الله بن عمر بن العاص ، 6689)