حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 209 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 209

209 حضرت ابوہریر گا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے پاس نہر ہو جس میں وہ ہر روز پانچ دفعہ نہائے۔تمہارا کیا خیال ہے یہ (نہانا) اس کی کچھ میل باقی رہنے دے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ کوئی میل بھی نہیں رہنے دے گا۔آپ نے فرمایا یہ پانچوں نمازوں کی مثال ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔191- عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ، عَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ ؟ (مسلم کتاب المساجد باب المشى الى الصلاة تمحى به الخطايا 1064) حضرت جابر اور وہ حضرت عبداللہ کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایک گہری اور بہتی ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازہ پر ہو اور وہ ہر روز پانچ مر تبہ اس سے نہاتا ہو۔راوی کہتے ہیں کہ حسن نے کہا اور یہ کوئی میل باقی رہنے نہ دے گا۔192ـ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَى، قَالَ وَلَمْ يَسْأَلُهُ عَنْهُ، قَالَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَهَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ، قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقَمْ فِي كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ ، قَالَ فَإِنَّ اللهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ، أَوْ قَالَ حَدَّكَ (بخاری کتاب الحدود باب اذا اقر بالحد ولم يبين هل للامام ان يستر عليه ، 6823)