حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 202 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 202

202 لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَظَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَقَالَ ضَرَبْتَ وَجْهَ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ إِنَّهَا سَوْدَاءُ لَا عِلْمَ لَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا أَيْنَ اللهُ ؟ فَقَالَتْ في السَّمَاءِ، قَالَ فَمَنْ أَنَا ؟ قَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فأعتقها، فأعتقها (مسند امام احمد امام ابھی (حنیفه) ، کتاب الایمان و الاسلام ، حدیث نمبر (4) عطاء نے نبی صلی علیم کے بہت سے صحابہ سے یہ واقعہ سنا کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی ایک لونڈی تھی جو ان کی بکریاں چرایا کرتی تھی۔عبد اللہ بن رواحہ نے اس کو ایک بکری کا خاص طور پر خیال رکھنے کی ہدایت کی۔چنانچہ وہ بکری موٹی تازی ہو گئی۔ایک دن چرواہن بعض اور جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف تھی کہ ایک بھیڑیے نے آکر اس بکری کو چیر پھاڑ دیا۔عبد اللہ بن رواحہ نے اس بکری کو نہ پایا تو اس کے متعلق پوچھا۔چرواہن نے سارا واقعہ بتا دیا جس پر انہوں نے چرواہن کو ایک تھپڑ مارا۔بعد میں اپنے فعل پر شر مندہ ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر رسول اللہ صلی اللی کام سے کیا۔رسول اللہ صلی علیم نے اس بات کو بڑی اہمیت دی اور فرمایا کہ تم نے ایک مومنہ کے منہ پر تھپڑ مارا؟ اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا۔حضور وہ تو حبشی عورت ہے اور جاہل سی عورت ہے اسے دین وغیرہ کا کچھ علم نہیں۔نبی صلی الیکم نے اس چرواہن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا۔اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا آسمان پر۔پھر آپ صلی علی کرم نے دریافت کیا۔میں کون ہوں؟ اس نے جو ابا کہا اللہ کے رسول۔یہ سن کر آپؐ نے فرمایا یہ مومنہ ہے اسے آزاد کر دو۔اس پر عبد اللہ بن رواحہ نے اسے آزاد کر دیا۔181۔اخبرنا ابوظبيان قال سمعتُ أَسَامَةَ بن زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الحُرَقَةِ، فَصَبَّحْنَا القَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ ، قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمُحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا أَسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ