حدیقۃ الصالحین — Page 201
201 حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی کریم نے ہماری موجودگی میں ایک دن فرمایا کہ غریب الوطن لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔عرض کیا گیا۔حضور ملیالم غریب الوطن لوگوں سے مراد کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی ٹیم نے فرمایاوہ نیک لوگ جو ایسے لوگوں میں رہتے ہوں جن میں فرمانبرداروں کی نسبت نافرمانوں کی بھاری اکثریت ہو ( اور نیک لوگ ان میں اجنبی اجنبی اور اوپرے او پرے لگیں جیسے وہ کسی اور دنیا کے باسی ہیں)۔احکام شریعت کا تعلق ظاہر سے ہے باطن کا علم خدا کو ہے 179- عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ، حَرُمَ مَالُهُ، وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ (مسلم کتاب الایمان باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا اله الا الله۔۔۔26) ابو مالک اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی ا ظلم کو فرماتے ہوئے سنا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور ان چیزوں کا انکار کیا جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے اس کا مال اور خون حرام ہو گیا اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔180۔عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثُوهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ كَانَتْ لَهُ رَاعِيَةٌ تَتَعَاهَدُ غَنَمَهُ، وَأَنَّهُ أَمَرَهَا تَتَعَاهَدُ شَاةٌ، فَتَعَاهَدَتهَا حَتَّى سَمِنَتِ الشّاةُ، وَاشْتَغَلَتِ الرَّاعِيَةُ بِبَعْضِ الْغَلَمِ، فَجَاءَ الذِئْبُ، فَاخْتَلَسَ الشَّاةَ وَقَتَلَهَا، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ، وَفَقَدَ الشَّاةَ، فَأَخْبَرَتْهُ الرَّاعِيَةُ بِأَمْرِهَا فَلَطَمَهَا، ثُمَّ نَدِمَ عَلَى ذَلِكَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ