حدیقۃ الصالحین — Page 200
200 177 عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُحَازَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَجُوزُ السَّيْلُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْرِزَنَ الْإِسْلَامُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الحية إلى مخرها (مسند احمد ، مسند المدنيين ، حديث عبد الرحمان بن سنة 16810) حضرت عبد الرحمان بن سنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی الی یم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام غریب الوطنی کی حالت میں شروع ہوا پھر غریب الوطن ہو جائے گا جیسا کہ شروع ہوا۔پس غریب الوطن لوگوں کے لیے خوش خبری ہے۔پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ! غرب الوطن کون ہیں ؟ آپ صلی للی یکم نے فرمایا وہ جو نیکی اور بھلائی پر قائم رہتے ہیں جبکہ عام لوگ بگڑ گئے ہوں اور ان میں فساد آ گیا ہو۔اس کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! ایمان مدینہ کی طرف یوں ہٹ آئے گا جیسے سیلابی موج بڑی تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹتی ہے۔اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اسلام دو مسجدوں کے درمیان یوں سکڑ اور سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سمٹ کر گھس جاتا ہے۔178- عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْن عَوْفٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، فقيل مَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ أَنَاسٌ صَالِحُونَ، فِي أُنَاسِ سُوءٍ كَثِيرٍ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ (مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابه ، ، مسند عبد اللہ بن عمر بن العاص 6650)