حدیقۃ الصالحین — Page 186
186 خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں۔ہم نے ان کی خدمت میں سلام عرض کیا اور کہا کہ ہم آپ سے ملنے اور کچھ استفادہ کرنے آئے ہیں اس پر عرباض نے فرمایا ایک دن رسول اللہ صلی علی تم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی علیم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بہت مؤثر فصیح و بلیغ انداز میں ہمیں وعظ فرمایا جس سے (لوگوں کی) آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور دل ڈر گئے۔حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ تو الو داعی وعظ لگتا ہے آپ کی نصیحت کیا ہے آپ صلی للی یکم نے فرمایا میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا۔دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔تمہیں دین میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچنا ہو گا کیونکہ ہر نئی بات جو دین کے نام سے جاری ہو بدعت ہے اور بدعت نری گمر اہی ہے۔158 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشِ يَقُولُ صَبَّحَكُمْ وَمَشَاكُمْ وَيَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلأُهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنَا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَى وَعَلَى (مسلم کتاب الجمعة باب تخفيف الصلاة والخطبة 1426) حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں اور آپ کی آواز بلند ہو جاتی تھی اور آپ کا جلال زیادہ ہو جاتا تھا گویا آپ کسی لشکر سے ڈرار ہے ہیں۔آپ فرماتے تھے کہ وہ صبح یا شام تم پر حملہ آور ہونے والا ہے اور فرماتے کہ میں اور قیامت ان دو کی طرح مبعوث کئے گئے ہیں اور آپ