حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 185 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 185

185 (حاضرین میں سے ) ایک شخص نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے آپ کیا نصیحت فرماتے ہیں ؟ آپ صلی یم نے فرمایا میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو۔کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا۔دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِ و السُّلَمِيُّ ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْن سَارِيَةً، وَهُوَ وَ منْ نَزَلَ فِيهِ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ (التوبة (92) فَسَلَّمْنَا، وَقُلْنَا أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةٌ مُوَدِعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا ؟ فَقَالَ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّبْعِ وَالطَاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشُ مِنْكُمْ بَعْدِى فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيَّينَ ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِنِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (ابو داؤد کتاب السنة باب فى لزوم السنة حديث نمبر 4607) عبد الرحمن بن عمر و سلمی اور حجر بن حجر بیان کرتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ کے پاس آئے یہ وہی عرباض ہیں جن کے بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس سواری حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں ( تا کہ غزوہ میں شریک ہو سکیں ) تو تو ان کو جواب دیتا ہے کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے وہ یہ جواب سن کر رنج و غم میں ڈوبے واپس جاتے ہیں ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہوتی ہیں کہ افسوس ان کے پاس