حدیقۃ الصالحین — Page 182
182 سے نکلنے لگے۔میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ نے تو فرمایا تھا کہ میں تمہیں قرآن میں سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔آپ نے فرمایا الحمد لله رب العالمین یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔152- عَن سَعِيدِ بْنِ أَبي سَعِيدٍ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنا مَنْ لَمْ يَتَذَنَ بِالْقُرْآنِ (ابو داؤد کتاب الصلاة باب كيف يستحب الترتيل في القراءة 1469) حضرت سعید بن ابی سعید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایاوہ ہم میں سے نہیں جو خوش الحانی سے قرآن نہ پڑھے۔153- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَى، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، اَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ نَعَمْ فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاء شَهِيدًا (النساء 42)، قَالَ حَسْبُكَ الآنَ فَالْتَفَتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب قول المقرئ للقاری حسبک 5050) حضرت عبد بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی علیم نے مجھے فرمایا مجھے قرآن مجید سناؤ۔میں کہا یارسول اللہ ! میں آپ صلی للہ علم کو قرآن سناؤں ! حالانکہ قرآن آپ صلی یہ تم پر نازل کیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں (دوسرے سے قرآن سننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے )۔تب میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی۔جب میں اس آیت پر پہنچا که فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ، وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شہیدا (کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان سب پر تجھے گواہ بنائیں گے)۔آپ صلی الی ایم نے فرمایا بس کر دو۔تلاوت مختم کر کے) جب میں نے آپ صلی ٹیم کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔