حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 175 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 175

175 اللہ اور اس کے فرشتے ، آسمانوں میں رہنے والے اور زمین میں رہنے والے، یہاں تک کہ چیونٹی جو بل میں ہے اور مچھلی جو پانی میں ہے یہ سب دعائیں مانگتے ہیں اس شخص کے لئے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔140- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضٍ مُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ، إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ، هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَدْعُونَ اللهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ (ابن ماجه، افتتاح الكتاب ، باب فضل العلماء و الحث على طلب العلم 229) حضرت عبد اللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی ییم اپنے ایک حجرے سے باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے تو آپ کے سامنے دو حلقے تھے۔اُن میں سے ایک حلقے والے) قرآن پڑھ رہے تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے اور دوسرے علم حاصل کر رہے تھے اور علم سکھارہے تھے۔نبی صلی علی کرم نے فرمایا سب نیک کام کر رہے ہیں۔یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔اگر اللہ چاہے تو ان کو دے گا اور اگر چاہے تو ان کو نہ دے گا اور یہ علم سیکھ رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس آپ ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔141- عَنْ۔۔۔۔۔۔زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ لَهُ كِتَابِ يَهُودَ قَالَ إِنِّي وَاللهِ مَا آمَنْ يَهُودَ عَلَى كِتَابِ قَالَ فَمَا مَرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ لَهُ قَالَ فَلَمَّا تَعَلَّمْتُهُ كَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَى يَهُودَ كَتَبْتُ إِلَيْهِمْ ، وَإِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ قَرَأْتُ لَهُ كِتَابَهُمْ (ترمذی کتاب الاستئذان باب ما جاء فى تعليم السريانيه 2715)