حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 174 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 174

174 قیس بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے حضرت ابو دردانہ کے پاس آیا جبکہ وہ دمشق میں تھے۔انہوں نے پوچھا اے میرے بھائی ! آپ کیسے آئے؟ انہوں نے کہا ایک حدیث کی طلب میں، مجھے معلوم ہوا کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللی علم سے بیان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کسی ضرورت سے تو نہیں آئے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا کسی تجارت کے لیے تو نہیں آئے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا میں صرف حدیث کی طلب میں آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی لی ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔جو شخص علم کی تلاش میں نکلے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔اور فرشتے طالب علم کے کام پر خوش ہو کر اپنے پر اس کے آگے بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان میں رہنے والے بخشش مانگتے ہیں یہاں تک کہ پانی کی مچھلیاں بھی اس کے حق میں دعا کرتی ہیں۔عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی دوسرے ستاروں پر ، اور علماء انبیاء کے وارث ہیں۔انبیاء روپیہ پیسہ ورثہ میں نہیں چھوڑ جاتے بلکہ ان کا ورثہ علم و عرفان ہے۔جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ بہت بڑا نصیبہ اور خیر کثیر حاصل کرتا ہے۔139- عَنْ أَبِي أُمَامَةَ البَاهِي قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا عَابِدُ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةٌ فِي مُجْرِهَا وَحَتَّى الحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ (ترمذی کتاب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة 2685) حضرت ابو امامہ باھلی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا۔ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسر ا عالم۔اس پر رسول اللہ صلی نیلم نے فرمایا عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے ایک معمولی آدمی پر ہے۔یعنی دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا