حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 168 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 168

168 ہو گی۔رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو۔کیونکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔میں نے کہا یارسول اللہ ! اللہ نے مجھے صدقہ کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ سچ ہی بولا کروں گا۔جب تک کہ میں زندہ رہوں گا۔کیونکہ اللہ کی قسم میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو۔جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے۔اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے اصل واقعہ بیان کیا میں نے آج تک عمد اجھوٹ نہیں بولا اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے محفوظ رکھے گا اور اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی للی کم پر یہ وحی نازل کی لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ۔۔۔۔وكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔اللہ کی قسم کہ اس کے بعد اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی۔کبھی بھی اس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سچ سچ بیان کر دیا۔شکر ہے کہ میں نے آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ورنہ میں ہلاک ہو جاتا جب کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔جو اس نے کسی کے لئے استعمال کئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا سَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمُ۔۔۔۔فَإِنَّ اللهَ لَا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ یعنی اللہ ان بد عہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہو گا اور کہتے تھے اور ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلے سے پیچھے رکھا گیا۔جن سے رسول اللہ صلی الی نام نے عذر قبول کیا تھا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی ال نیلم نے ہمارے فیصلہ کو ملتوی کر دیا۔یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا اور جب پیچھے رکھے جانے کا اللہ نے (اس میں ) ذکر کیا ہے۔وہ غزوہ سے ہمارے پیچھے رہنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا ہے کہ جنہوں نے رسول اللہ صلی یام کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپ کے پاس مندر میں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی۔الله