حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 165 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 165

165 سامنے بنائے۔رسول اللہ صلی علیہ نیم کا تمہارے لئے مغفرت کی دعا کر دینا ہی تمہارے اس گناہ بخشانے کے لئے کافی تھا۔اللہ کی قسم یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے۔یہاں تک کہ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔پھر میں نے ان سے پوچھا۔کیا کوئی میرے ساتھ اور بھی ہے جس نے آپ سے اس قسم کا اقرار کیا ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں۔دو اور شخص ہیں۔انہوں نے بھی وہی کیا ہے جو تم نے کیا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔میں نے کہا وہ کون ہیں؟ کہنے لگے۔مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ واقفی۔انہوں نے مجھ سے ایسے نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شامل ہوئے تھے۔وہ دونوں (میرے لیے ) اسوہ تھے۔تو میں چلا گیا اور رسول اللہ صلی الیکم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔یعنی ان میں سے جو ان لوگوں میں سے تھے جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے لوگ کترانے لگے۔گویا کہ ہم سے بالکل نا آشنا ہیں۔یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔ہم اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔میرے جو ساتھی تھے وہ تو رہ گئے اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے اور میں ان لوگوں میں سے زیادہ جو ان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔میں گھر سے نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شریک ہو تا اور بازاروں میں پھرتا۔مگر مجھ سے کوئی بات نہ کرتا اور رسول اللہ صلی علیم کے پاس بھی جاتا۔آپ کو السلام علیکم کہتا۔جب کہ آپ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا۔کیا آپ نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے یا نہیں؟ اور آپ کے قریب ہو کر نماز پڑھتا اور نظر چرا کر آپ کو دیکھتا۔یہاں تک کہ لوگوں کی یہ درشتی مجھ پر لمبی ہو گئی۔تو میں چلا گیا اور ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا۔یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔میں نے ان کو السلام علیکم کہا اللہ کی قسم انہوں نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ابو قتادہ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ؟ وہ خاموش رہے۔پھر ان سے پوچھا اور ان کو قسم دی اور انہوں نے کہا اللہ اور اس کار سول بہتر جانتے ہیں۔یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔میں پیٹھ موڑ کر دیوار پھاندی (اور وہاں سے چلا آیا )۔کعب کہتے تھے اس اثناء میں کہ میں مدینہ کے بازار میں چلا جارہا تھا کیا دیکھتا ہوں کہ اہل شام کے قبطیوں سے ایک