حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 146 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 146

146 خوبصورت عورت نے بلا یا مگر اس نے کہا میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے کوئی صدقہ کیا اور اسے چھپا کر دیا یہاں تک کہ اس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔اور وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ تعالی کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔118- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضى اللهُ عنهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَقَدَ ثَابِتَ بَنَ قَيْسٍ، فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ، مُنَكِّسًا تأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ شَرٌّ، كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ مُوسَى فَرَجَعَ إِلَيْهِ المَرَّةَ الْآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ، فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَلَكِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ بخاری کتاب تفسیر القرآن باب لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبی 4846) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ا یکم نے ایک دفعہ ثابت بن قیس کو نہ پایا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔اس پر ایک شخص نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول صلی علیکم! میں اس کا پتہ لے آتا ہوں۔چنانچہ وہ ثابت کے پاس آیا اور اسے اس حالت میں دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے غمگین بیٹھا ہے۔اس نے ثابت سے پوچھا تمہاری یہ کیا حالت ہے۔اس نے جواب دیا بہت بری ہے۔میری آواز نبی صلی الم کی آواز سے بلند ہے اور قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ رسول کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرو۔مجھ سے تو اس کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے ) اس کا عمل ضائع ہو گیا اور وہ اب آگ والوں میں سے ہے (اور اس غم میں گھر بیٹھ گیا ہوں)۔اس آدمی نے آکر نبی علی ایم کو یہ حالات بتائے کہ ثابت یہ کہتا ہے۔(راوی) موسیٰ کہتے تھے پھر وہ شخص دوبارہ ان کے پاس بڑی بشارت لے کر گیا۔آپ نے فرمایا اس کے پاس جاؤ اسے کہو تم دوزخیوں میں سے نہیں ہو