حدیقۃ الصالحین — Page 145
145 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے اپنے آپ پر بہت زیادتی کی، خوب گناہ کیے۔جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو باریک پیس لینا اور میری اس راکھ کو سمندری فضا کی ہوا میں اڑا دینا۔خدا کی قسم مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر میں اپنے خدا کے ہاتھ آگیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے وہ مجھے ایسی سزا دے گا جس کی مثال نہیں مل سکے گی۔حضور صلی الیکم نے فرمایا چنانچہ اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا۔لیکن خدا نے زمین کو حکم دیا کہ جہاں جہاں اس شخص کی راکھ کے ذرے گرے ہیں وہ سب واپس کر دو۔چنانچہ وہ شخص پورے جسم کے ساتھ خدا کے حضور لرزاں ترساں آحاضر ہوا۔خدا نے اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا۔اے میرے خدا! تیری خشیت اور تیرے خوف نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔خدا کو اس کی یہ ادا اور احساس ندامت پسند آیا اور اس کو بخش دیا۔117- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ فِي ظِلِهِ يَوْمَ لا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابًا فِي اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًا ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ (مسلم کتاب الزكاة باب فضل اخفاء الصدقة 1698) الله سة حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی علیم نے فرمایا سات ( شخص ) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا۔انصاف کرنے ولا امام اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ہو اور وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہے۔اور وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی اسی کیلئے وہ اکٹھے ہوئے اور اسی کے لئے جدا ہوئے اور وہ شخص جسے کسی بڑے منصب والی ا