حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 138 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 138

138 سے نہیں پوچھتے۔آپ نے فرمایا تو کیا پھر تم مجھ سے عربوں کے خاندانوں کی نسبت پوچھتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں۔فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں، بشر طیکہ دین سیکھیں اور سمجھیں۔110- عَنْ وَابِصَةَ الْأَسَدِيّ - قَالَ عَفَانُ حَدَّثَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ - قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرَ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عنه۔۔۔۔۔۔فقال جنت تَسْألني عن البز والإِثْمِ فَقَالَ نَعَمْ، فَجَمَعَ أَنامِلَهُ فَجَعَلَ يَنكُتُ بِينَ فِي صَدْرِي، وَيَقُولُ يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ ، وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ (مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين ، حدیث و ابصو بن معبد الاسدي 18169) حضرت وابصہ بن معبد بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور میں آپ سے نیکی اور گناہ کے بارہ میں ہر بات پوچھنا چاہتا تھا۔آپ صلی اللہ تم نے فرمایا کیا تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔آپ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ میرے سینہ کو ٹھکورنے لگے اور فرمانے لگے اے وابصہ ! اپنے دل سے پوچھ۔تین بار کامل نیکی وہ ہے جس پر تیر ا دل اور تیر اجی مطمئن ہو۔اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تیرے لئے اضطراب کا موجب بنے اگر چہ لوگ تجھے اس کے جواز کا فتویٰ دیں اور اسے درست کہیں۔111- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كُن وَرِعًا، تَكُن أَعْبَدَ النَّاسِ، وَكُنْ قَنِعًا، تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، تَكُن مُؤْمِنًا، وَأَحْسِن جَوَارٌ مَنْ جَاوَرَكَ، تَكُن مُسْلِمًا ، وَأَقِلَ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَفَرَةَ الضَّحِتِ مُمِيتُ الْقَلْبَ ابن ماجه کتاب الزهد باب الورع والتقوى 4217)