حدیقۃ الصالحین — Page 135
135 یقین ، توکل اور توفیق الہی 107- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ القَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ العِضَادِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي العِضَاءِ، يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ۔قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَةً، ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِي جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنا نَاكُمْ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْنَا، فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ اللَّهُ، فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع 4135) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئے تو وہ بھی ان کے ساتھ لوٹے۔آپ کو اتفاق سے دو پہر کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں کانٹے دار درخت بہت تھے۔رسول اللہ صلی علیکم اتر پڑے اور لوگ ان درختوں میں اِدھر اُدھر بکھر گئے تاکہ سایہ میں بیٹھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیکر کے درخت کے نیچے ڈیرا کیا۔آپ نے اس سے اپنی تلوار لٹکا دی۔حضرت جابر کہتے تھے کچھ ہم سوئے۔پھر کیا سنتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم میں بلا رہے ہیں۔ہم آپ کے پاس آئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے میری تلوار سونت لی اور میں سویا ہوا تھا، میں جو بیدار ہوا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں سوتی ہوئی تھی۔اس نے مجھ سے پوچھا کون تمہیں مجھ سے بچائے گا؟ میں نے کہا اللہ۔تو یہ دیکھو وہ بیٹھا ہوا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سزا نہ دی۔