حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 131 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 131

131 دوڑ کر جاتا ہوں اور جو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ بھی میرے پاس آئیگا بشر طیکہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے برابر مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا۔توجہ الی اللہ ، تقدیر اور راضی برضا ر ہنے کا مفہوم 105- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ يَا غُلَامُ إِنِّي أَعَلِمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ لَكَ ، وإِن اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ (ترمذی کتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب ما جاء في صفة اوانى الحوض 2516) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ میں رسول اللہ صل اللی کم کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا۔صلی ا لم نے فرمایا اے برخوردار! میں تجھے چند باتیں بتاتا ہوں۔اول یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا خیال رکھ، اللہ تعالیٰ تیر اخیال رکھے گا۔تو اللہ تعالی پر نگاور کھ تو اسے اپنے پاس پائے گا۔جب کوئی چیز مانگنی ہو تو اللہ تعالی سے مانگ۔اگر مددمانگنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے مانگ اور سمجھ لے کہ اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تجھے فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے اور تیری قسمت میں فائدہ لکھ دے۔اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ تیری قسمت میں نقصان لکھ دے۔قلمیں اٹھا کر رکھ دی گئی ہیں اور صحیفہ تقدیر خشک ہو چکا ہے۔