حدیقۃ الصالحین — Page 102
102 فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنَ عَلَى رَني فَيُؤذن لي ، فَإِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعَتْ سَاجِدًا، فَيَدَعْنِي مَا شَاءَ اللهُ فَيُقَالُ يا محمد ارفع رأسك، قُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُغطة، اشْفَعْ تُشَفَعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ رَبِّي، ثُمَّ أَشْفَعْ فَيَحُدُّ لي حَدًّا فَأَخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأَدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ رأسك يَا مُحَمَّدُ، قُلْ تُسمع، سَلْ تُغطة، اشْفَعْ تُشَفَعْ، فَأَرْفَعُ رأسي، فأحمد ربي يتخوين يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعْ فَيَحُتُ لي حَتَّا، فَأُخْرِجَهُمْ مِنَ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ - قَالَ فَلَا أَدْرِى فِي القَالِقَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ - قَالَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ۔قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ قَتَادَةُ أَن وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ (مسلم کتاب الايمان باب ادنى من اهل الجنة منزلة فيها (276) الله حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور لوگ اس وجہ سے فکر مند ہوں گے۔ابن عبید کہتے ہیں اس لئے ان کے دلوں میں ڈالا جائے گا تو وہ کہیں گے کیوں نہ ہم اپنے رب کے پاس کسی کی شفاعت لے کر جائیں تا کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دلائے۔فرمایا چنانچہ وہ آدم علی ایم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ آدم ہیں ابو البشر ہیں۔اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کی خاطر سجدہ کیا آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کریں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے۔آدم کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور (کہیں گے) نوح کی طرف جاؤ جو پہلے رسول تھے جنہیں خدا نے مبعوث فرمایا پھر لوگ نوح ملی ایم کے پاس جائیں گے۔وہ کہیں گے میں تو اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو اُن سے ہوئی اور وہ اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے اور ( کہیں گے ) ابراہیم علی علیم کے پاس جاؤ جن کو خدا نے گہر ا دوست بنایا تھا۔اس پر لوگ ابراہیم علی عالم کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں اور اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے اور جو