حدیقۃ الصالحین — Page 103
103 پر الله سة ان سے ہوئی تھی اور اس وجہ سے اپنے رب سے شرمائیں گے (اور کہیں گے ) موسی علی ایم کے پاس جاؤ جن سے خدا نے خوب کلام کیا اور انہیں تو رات دی۔فرمایا تو لوگ موسی صلی للی نیم کے پاس جائیں گے مگر وہ کہیں گے میں اس مقام پر نہیں ہوں۔وہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ سے اپنے رب کے پاس جانے) سے شرمائیں گے ( اور کہیں گے ) عیسی کے پاس جاؤ جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے۔چنانچہ وہ عیسی کے پاس جو روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ میں اس مقام پر نہیں ہوں لیکن تم محمد علی یام کے پاس جاؤ۔وہ ایسے عہد ہیں جنہیں خدا نے اگلے پچھلے گناہوں سے منزہ کیا ہوا ہے۔راوی کہتے ہیں رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تب وہ میرے پاس آئیں گے۔میں اپنے رب کے پاس آنے کی اجازت چاہوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔جب میں اس کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر جاؤں گا۔اللہ مجھے (اس حالت میں ) رہنے دے گاجب تک وہ چاہے گا پھر کہا جائے گا اسے محمد علی ییم ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی ، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گاجو میر ارب مجھے سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا اور میرے لئے وہ ایک حد مقرر کر دے گا۔میں ان کو جہنم سے نکال لوں گا پھر میں دوبارہ واپس آؤں گا اور سجدہ میں گروں گا اور جب تک اللہ چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا پھر کہا جائے گا اے محمد صلی اللہ ! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری سنی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔تب میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔پھر میں شفاعت کروں گا وہ میرے لئے حد مقرر کر دے گا۔میں ان کو جہنم سے نکال لوں گا اور جنت میں داخل کر دوں گا۔راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی علی کرم نے فرمایا میں کہوں گا اے میرے رب اب جہنم میں صرف وہ رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی جن پر لمبا عرصہ رہنا واجب ہے۔سة 67 - حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَى الْأُهُمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الرُّهَيْدُ ، وَالنَّبِي وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ