حدیقۃ الصالحین — Page 99
99 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم کے پاس گوشت لا یا گیا اور اس میں سے دستی کا گوشت اٹھا کر آپ کے سامنے پیش کیا گیا اور آپ کو یہ بہت پسند تھا آپ نے اس میں سے دانتوں سے تھوڑا سا لیا پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ، کیا تم جانتے ہو کس لیے ؟ پہلے اور پچھلے لوگ ایک ہی میدان میں اکٹھے کئے جائیں گے۔پکارنے والا ان سب کو سنائے گا اور آنکھ ان کو دیکھے گی اور سورج نزدیک آجائے گا اور لوگوں کو اس قدر ہم و غم ہو گا جس کی وہ طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ اسے برداشت کر سکیں گے۔لوگ آپس میں کہیں گے کہ کیا دیکھتے نہیں کہ تمہارا کیا حال ہو چکا ہے کیا اب بھی تم ایسے شخص کو نہیں ڈھونڈو گے جو تمہارے رب کے پاس تمہارے لیے سفارش کرے، تب بعض لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ چلو آدم سے مدد لیں۔فرمایا چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ آدم ہیں ابو البشر ہیں۔اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کی خاطر سجدہ کیا۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حالت میں ہیں، ہماری نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔آدم کہیں گے میر ارب آج بہت بڑے جلال میں ہے کہ اس سے قبل اتنے جلال میں نہیں ہوا اور اس کے بعد ایسے جلال کا اظہار کرے گا۔اور اس نے مجھے درخت سے روکا تھا اور میں نے اس کی نافرمانی کی ، مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے ، اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے ، میرے سوا تم کسی اور کے پاس جاؤ۔نوح کی طرف جاؤ۔پھر لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔وہ کہیں گے اے نوح آپ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ قرار دیا ہے۔اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میر ارب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔اور مجھ سے ایک دعا ہو گئی تھی جو میں نے اپنی قوم کے ہی خلاف کی تھی، مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے۔مجھے اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔۔میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم ابراہیم کے پاس جاؤ۔وہ حضرت ابراہیم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے ابراہیم آپ اللہ کے نبی ہیں اور ساری زمین والوں میں سے اس کے دوست ہیں آپ اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ؟ ا