حدیقۃ الصالحین — Page 100
100 وہ کہیں گے کہ میر ارب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔میں نے تو تین باتیں خلاف واقعہ کہی تھیں۔ابو حیان نے حدیث میں ان ( خلاف واقعہ باتوں کا ذکر کیا ہے۔مجھے اپنی ہی فکر ہے ، اپنی ہی فکر ہے۔میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم موسیٰ کے پاس جاؤ وہ حضرت موسیٰ علیہ سلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں۔اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت دی ہے اپنے رب سے ہمارے لیے سفارش کریں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میرا رب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔اور میں نے ایک جان کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا حکم مجھے نہیں تھا مجھے تو اپنی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔تم عیسی بن مریم کے پاس جاؤ۔وہ حضرت عیسی کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسی آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو مریم کو اللہ نے القا کیا اور اس کی روح ہیں۔آپ نے گہوارے میں لوگوں سے باتیں کیں ، ہماری سفارش کریں۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں ؟ حضرت عیسی' کہیں گے میر ارب عزو جل آج بہت بڑے غضب میں ہے ، ایسا غضب ناک نہ وہ پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہو گا۔انہوں نے اپنے کسی گناہ کا ذکر تو نہیں کیا(مگر کہیں گے ) مجھے تو اپنی فکر ہے ، اپنی ہی فکر ہے ، اپنی ہی فکر ہے۔میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ تم محمد علی لی نام کے پاس جاؤ۔اور وہ حضرت محمد صلی یکیم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ نے آپ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا اور بعد میں بھی ، اپنے رب سے ہماری سفارش کریں۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں تو میں ( یہ سن کر ) جاؤں گا اور عرش کے نیچے آکر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر جاؤں گا اور اللہ مجھے اپنی خوبیاں بیان کرنے کی توفیق دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو ویسی توفیق نہ دی ہو گی۔پھر کہا جائے گا اے محمد صل الیکم! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری سنی جائے گی ،مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا اے میرے رب میری امت، اے میرے رب میری امت، اے میرے رب میری امت۔کہا جائے گا محمد ! اپنی امت ہی سے جن