حدیقۃ الصالحین — Page 89
89 لوٹے اور اپنے گھروں پر جب پہنچے تو ایک یہودی شخص اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے کے لئے چڑھا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھ لیا جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔سراب ان سے آہستہ آہستہ ہٹ رہا تھا۔یہودی سے رہا نہ گیا اور بے اختیار بلند آواز سے بول اُٹھا اے عرب کے لوگو! یہ تمہارا وہ سر دار ہے جس کا تم انتظار کر رہے ہو۔یہ سنتے ہی مسلمان اٹھ کر اپنے ہتھیاروں کی طرف لیکے اور حرہ کے میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔آپ انہیں ساتھ لئے ہوئے داہنی طرف مڑے اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں ان کے ساتھ اترے اور یہ دو شنبہ (سوموار ) کا دن تھا اور ربیع الاول کا مہینہ۔حضرت ابو بکر لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے اور انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا آئے اور حضرت ابو بکر کو سلام کرنے لگے۔یہاں تک کہ دھوپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑنے لگی۔حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی چادر سے سامیہ کیا۔اس وقت لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنوعمرو بن عوف کے محلہ میں دس سے کچھ اوپر راتیں ٹھہرے اور وہ مسجد بنائی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی اور اس میں رسول اللہ صلی علیم نے نماز پڑھی۔پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور لوگ آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے اور وہ اونٹنی مدینہ میں وہاں جا کر بیٹھی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ان دنوں وہاں چند مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ سہیل اور سہل کے کھجوریں سکھانے کی جگہ تھی جو دو یتیم بچے حضرت سعد بن زرارہ کی پرورش میں تھے۔جب آپ کی اونٹنی نے آپ کو وہاں بٹھا دیا تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اگر اللہ نے چاہا تو یہیں ہماری قیام گاہ ہو گی۔پھر رسول اللہ صلی الی یکم نے ان دولڑکوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا اسے مسجد بنائیں تو ان دونوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! ہم آپ کو یہ زمین مفت دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیکم نے ان سے یہ زمین مفت لینے سے الله انکار کیا اور اسے ان سے خریدا اور پھر وہاں مسجد بنائی اور رسول اللہ صلی للی کم اس مسجد کے بنانے کے لئے لوگوں کے ساتھ اینٹیں ڈھونے لگے اور جب اینٹیں ڈھو رہے تھے تو ساتھ ساتھ کہتے جاتے 66 یہ بوجھ خیبر کے بوجھ جیسا نہیں بلکہ اے ہمارے رب ! یہ بہت بھلا اور پاکیزہ ہے “