ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 16
14 حاصل کرے تو امام شافعی کے نزدیک ایسا نکاح جائز نہیں ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے نزدیک جائز ہے۔اور امام مالک کے نزدیک قلیل تاخیر کی صورت میں جائز ہے کثیر کی صورت میں نہیں۔اس اختلاف کی بناء یہ ہے کہ بعض کے نزدیک فریقین کا ایجاب و قبول ایک ہی وقت میں ضروری نہیں ہے لیکن بعض کے نزدیک ایک ہی وقت میں ہونا ضروری ہے یہی اختلاف بیوع میں بھی پایا جاتا ہے۔شرائط نکاح باب دوم میں جن مسائل کی تشریح مقصود ہے ان میں سے پہلا مسئلہ کیفیت نکاح کا ہے۔جس کی تشریح ہم کر چکے ہیں۔دوسرا مسئلہ شرائط نکاح کا ہے جس کی تشریح ہم آئندہ سطور میں کریں گے۔نکاح کی بنیادی شرائط تین ہیں :- اول : اولیاء دوم :۔گواہوں کی گواہی۔سوم : حق مہر - نکاح کی پہلی بنیادی شرط اولیاء کی رضامندی اولیاء کے متعلق تفصیلات معلوم کرنے کے لئے مندرجہ ذیل امور کا جاننا ضروری ہے اول :- کیا صحت نکاح کے لئے اولیاء کی رضا مندی ضروری ہے۔دوم - اولیا ر نکاح کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں۔- سوم: اولیاء نکاح کی کتنی اقسام ہیں۔اور ولایت میں ان کی کیا ترتیب ہے۔چہارم کیا اولیار زوجین کو نکاح سے روک سکتے ہیں۔->