ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 286
۲۸۶ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ وَسَلَّمَ قَالَ لا يعانَ بَيْنَ اَرْبَعَةِ الْعَبُدَيْنِ وَالكَافِرِّين جمہور کی دلیل یہ ہے کہ رمان شہادت نہیں ہے بلکہ قسم ہے کیونکہ شہادت خود اپنے متعلق نہیں ہوا کرتی۔نقسم کے لئے شہادت کا لفظ قرآن مجید میں استعمال کیا گیا ہے۔جیسا کہ منافقین کے ذکر میں فرمایا : - إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا تَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ الهوة وما تقون )) اس کے بعد فرمایا : اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةٌ ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس جگہ منافقوں کی شہادت سے مراد ان کی قسم ہے اور قسم علامہ بھی کھا سکتے ہیں لہذا ان کا معان صحیح ہونا چاہیئے۔- اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اندھے کا لعان صحیح ہے اور گونگے کے لعان میں اختلاف ہے۔امام مالک اور شافعی کے نزدیک جب اس کے اشارات واضح ہوں تو اس کا یعان صحیح ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک چونکہ وہ شہادت کی اہلیت نہیں رکھتا اس لئے اس کا یحان درست نہیں جمہور فقہاء کے نزدیک ریحان کی تعریف یہ ہے۔کہ یعان کی تعریف جب خاوند اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے۔تو وہ جب قاضی کے سامنے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ اس نے اسے زناء کرتے دیکھا ہے اور پانچویں شہادت یہ دے کہ اگر وہ اپنے دعوئی میں جھوٹا لہ ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ملی شد علیہ وسلمنے فرمایا کہ چار شخصوں کے درمیان بھان نہیں ہو سکتا۔غلام اور کنیز کے درمیان - کافراور کافرہ کے درمیان۔کے ترجمہ :۔جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔ترجمہ :۔انہوں نے اپنی قسموں کو تیری گرفت سے بچنے کے لئے ڈھال بنالیا ہے۔