ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 263 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 263

۲۶۳ اسی طرح اگر وہ کسی عورت کی تعیین کئے بغیر ظہار کرے مثلاً یہ کہے کہ ہیں میں عورت سے بھی نکاح کرونگا۔اس کی پیٹھ میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو یہ ظہار بھی صحیح ہوگا۔دامام مالک کے نزدیک غیر معین صورت سے ظہار صحیح ہے۔ایراد صحیح نہیں ہے، لیکن امام ابو حنیفہ - نوری اور اوزاعی کے نزدیک ظہار صرف منکوحہ عورت سے ہی ہو سکتا ہے۔غیر منکوحہ سے نہیں ہو سکتا۔ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ ظہار ملوکہ عورت سے ہو سکتا ہے یہ قول امام شافعی ابو ثور اور داؤد کا ہے۔ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ غیر معتین عورتوں سے ظہار نہیں ہو سکتا لیکن معین عورتوں سے ہو سکتا ہے۔مثلاً یہ کہے کہ اگر فلاں شہر یا فلاں قبیلہ یا فلاں محلہ کی عورت سے نکاح کروں تو اس کی پیٹھ میری ماں کی بیٹھ کی طرح ہے۔تو یہ نہار صحیح ہو گا۔یہ قول ابن ابی لیلی۔اور حسن بن تھی کا ہے۔فریق اول کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اوفُوا بِالْعُقُودِ کہ اپنے عہد کو پورا کرو۔چونکہ یہ بھی ایک عہد ہے لیکن ملکیت کے ساتھ مشروط ہے تو ہم اسے ایسا ہی سمجھیں گے جیسا کہ وہ فی الحال اس کا مالک ہے کیونکہ مومن پر عہد کی پابندی لازم ہے لہذا یہ ظہار صحیح ہوگا۔امام شافعی کی دلیل حضرت عمرو بن شعیب کی ایک روایت ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے بیان کی ہے۔اور وہ یہ ہے:۔انَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لا طَلَاقَ إِلَّا فِيمَا اس بارہ میں امام مالک کے نزدیک ایکار اور ظہار کے حکم میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ ایلا ایک قسم کی طلاق ہے اور ابلاء میں اس قسم کی طلاق کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمر بھر کے لئے دنیا کی تمام عورتوں کو اپنے لئے حرام کر رہا ہے۔چونکہ یہ شرعی حکمت کے خلاف ہے اس لئے غیر معین عورتوں کے لئے ایلاء جائزہ نہیں ہے۔ظہار میں چونکہ یہ صورت نہیں ہے اور اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔بلکہ کفارہ ادا کرتا پڑتا ہے۔اس لئے انہوں نے غیر معتلق عورتوں کے ظہار کو صحیح قرار دیا ہے۔