ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 207
۲۰۷ حضرت عمرہ کے متعلق ایک روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے۔کہ اس مسئلہ میں آپ کا مذہب یہ تھا کہ اس کے پہلے خاوند کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔یا تو اپنی بیوی کو اختیار کرے یا اس کو دیا ہوا حق مہر واپس لے لے۔امام مالک کے پہلے قول کی تائید میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ابن شہاب نے سعید بن المسیب کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ :- مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الَّذِي يُطَلِقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا فَيَكْتُمُهَا اجعَتَهَا حَتَّى تَحِلَّ فَتَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ مِنْ أَمْرِهَا شَيْءٍ وَلَكِنَّهَا لِمَنْ تَزَوَجَهَا اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ روایت صرف ابن شہاب نے ہی بیان کی ہے۔اس لئے اس کو قابل حجت قرار نہیں دیا جا سکتا۔وہ فقہار جن کے نزدیک پہلے خاوند کا حق فائق ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ اس امر پر سب علماء کا اجماع ہے کہ جب تک مطلقہ دوسری جگہ نکاح نہ کرلے اس وقت تک پہلے خاوند کا حق فائق ہوتا ہے۔پس جب پہلے خاوند کا رجوع شرعاً صحیح ہے تو دوسرے خاوند کا نکاح شرکا فاسد ہونا چاہیئے اور اس کا نکاح پہلے خاوند کے رجوع پر اثر انداز نہ ہوتا چاہئیے۔خواہ اس نے اس کے ساتھ مجامعت کر لی ہو یا نہ کی ہو۔اس کی تائید سمرة بن جندب کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔انَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَة تَزَوَّجَهَا اِثْنَانِ فَهِىَ لِلاَوَّلِ مِنْهُمَا وَ مَنْ بَاعَ کہ ترجمہ : وہ شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دے پھر رجوع کرے اور رجوع کو اپنی بیوی سے پوشیدہ رکھے۔چنانچہ اس کی بیوی عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کرلے تو اس کے متعلق مسنون طریق یہ گذرا ہے کہ پہلے خاوند کو اب اس پر کوئی حق نہیں رہا۔بلکہ وہ اس کی بیوی ہے جس سے اس نے دوسری جگہ نکاح کیا ہے۔