ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 192 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 192

١٩٢ اصحاب شافعی نے اس قدر فرق کیا ہے کہ اگر اس کی نیت طلاق کی ہوگی تو طلات واقع ہوگی ورنہ نہیں۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک مکرہ کی طلاق واقع ہو جاتی ہے اسی طرح اگر کسی شخص کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے غلام کو آزاد کرے تو اس کے آزاد کرنے سے وہ غلام آزاد ہو جائے گا لیکن اگر بیع پر مجبور کیا گیا ہو تو سیع نافذ نہ ہوگی۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک ا مکرہ یعنی مجبور کیا گیا شخص اکراہ کے باوجود مختار ہے کیونکہ الفاظ کا تلفظ تو اس کے اپنے اختیار میں ہے اور حقیقی مجبور تو وہ شخص ہے جس کو کسی فعل کے کرنے کا مطلقا اختیار نہ ہو۔بعض کے نزدیک مکرہ اختیار مند نہیں ہے کیونکہ اختیار اپنی مرضی کے تابع ہوتا ہے اور جبر کی صورت میں وہ اپنی مرضی کے تابع نہیں ہوتا۔امام ابن رشد کے نزدیک جبر کی صورت میں شرکا اسے مجبور کہا جائے گا اگر چہ اسے تلفظ کا اختیار ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنَّ بِالْإِيمَانِ لہذا ایسے شخص کی طلاق نافذ نہ ہوگی۔ترجمه : (جو لوگ ایمان لانکے بدلہ تعالی کا انکار کریں سوائے انکے جنہیں کفر پر جبور کیا گیا ہو لیکن ان کا دل ایمان پر ملین ہوں کا چچا زاد بھائی تھا اس نے امام مالک کو حکم دیا کہ وہ ایسا فتوی نہ دیں لیکن امام صاحب نے۔اپنا فتوئی واپس نہ لیا۔بالآخر اس بناء پر آپ کو کوڑے لگائے گئے۔امام صاحب کے سامنے ایک تو خلفاء کا وہ طریق تھا جس کے ہاتحت وہ شریعت کے احکام کا مذاق اُڑا رہے تھے۔آپ اس طریق کو نا پسند فرماتے تھے اس لئے آپ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہو گئے اور اس فتولی کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔دوسری طرف امام صاحب کے سامنے حضرت عائش پے کی ایک روایت تھی جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا لا طَلَاقَ وَلَا عِتاق فِي اغْلَاقٍ که حالت جبر و اکراہ میں طلاق اور خناق (غلام کی آزادی صحیح نہیں۔ہندا آپ نے با وجو و خلفاء کے جبر کے اس فتوی کو واپس نہ لیا۔امام مالک کے علاوہ صحابہ میں سے حضرت ابن عباس۔حضرت ابن عمر اور حضرت عروہ نے بھی یہی ریقیه ماشیم طار وہ گرفت میں نہیں آئے