ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 171 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 171

141 اس اختیار کا ظاہر مفہوم ہی اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے طلاق بائن کے ذریعہ جدا ہونے کو تیار ہیں۔امام شافعی کے نزدیک یہ الفاظ چونکہ نص کا حکم نہیں رکھتے اس لئے اس بار میں خاوند کی نیت کو دیکھا جائے گا اگر اس کی نیت طلاق بائن کی ہوگی تو اسے طلاق بائن ہوگی اور اگر اس کی نیت طلاق رجعی کی ہوگی تو اسے طلاق رجعی ہوگی۔اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ " تملیک طلاق سے خاوند کو اس امر کا اختیام حاصل ہوتا ہے کہ وہ تعداد کے بارہ میں بیوی سے اختلاف کرے یعنی اگر اس کی بیوی اپنے اوپر تین طلاقیں وارد کرلے تو خاوند یہ کہدے کہ اس نے صرف ایک طلاق کا اختیار دیا تھا۔کیونکہ ان لفظوں میں تعداد طلاق کے متعلق کوئی مفہوم نہیں نکلتا۔امام مالک اور امام شافعی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر تملیک طلاق کی صورت میں بیوی اپنے اوپر ایک طلاق وارد کرے تو وہ طلاق رجبھی ہوگی۔کیونکہ عام عات میں طلاق کو عرف شرعی کے ماتحت معمول کرنا چاہیئے۔اور طلاق کا شرعی تقاضا یہ ہے کہ وہ طلاق سنت ہو۔اور طلاق سنت ایک رجعی طلاق کی صورت میں ہوتی ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ طلاق بائن ہوگی کیونکہ اگر اس کو طلاق رجعی قرار دیا جائے تو بیوی نے جو تملیک کا اختیار حاصل کیا ہے اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں کہتا۔جن کے نزدیک تملیک طلاق کی صورت میں بیوی کو اپنے اوپر تین طلاقیں وارد کرنے کا اختیار ہے ان کے نزدیک ایسی صورت میں خاوند کو اس سے انکار کرتے کا اختیار نہیں ہے۔کیونکہ اس اختیار کا تقاضا یہ ہے کہ خاوند کے پاس جس قدر طلاقوں کا اختیار تھا وہ اس نے اپنی بیوی کی طرف منتقل کر دیا۔اب اسے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔جن کے نزدیک ” تملیک طلاق“ کی صورت میں بیوی کو صرف ایک طلاق وارد