ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 170
12۔دیتے جمہور فقہار نے جو یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ تملیک طلائی اور اختیار طلاق کی صورت میں عورت کو طلاق کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے اس کی دلیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں کو اس امر کا اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیں اور چاہیں تو علیحدگی اختیار کرلیں۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ کو اختیار کر لیا۔اس لئے ہمیں طلاق نہ ہوئی۔اہل ظاہر اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں طلاق کو اختیار کر لیتیں تو محض اس اختیار کر لینے سے ان پر طلاق واقع نہ ہوتی۔بلکہ اس صورت میں خود رسول اللہ ان کو طلاق دیدیتے۔لہذا اس سے یہ معلوم ہوا کہ محض تملیک طلاق یا اختیار طلاق سے عورت کو اپنے اوپر طلاق وارد کر لینے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔بلکہ یہ حق ان کے خاوند کے پاس ہی رہتا ہے۔جمہور فقہاء کے نزدیک اختیار طلاق اور تملیک طلاق کا حکم مساوی ہے کیونکہ لغوی معنوں کے لحاظ سے اس کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو اس امر کا اختیار دے دیتا ہے کہ وہ چاہے تو یہ کام کرے اور چاہے تو نہ کرے تو اس سے اس کو اس امر کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔امام مالک کے نزدیک جب خاوند بیوی کو یہ کہتا ہے کہ چاہو تو تم مجھے اختیا کرو اور چاہو تو اپنے اوپر طلاق وارد کر لو تو شرعی عرف کے لحاظ سے اس نے اس کو بائن طلاق کا اختیار دے دیا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنی بیویوں کو علیحدگی کا اختیار دیا تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ چاہیں تو آپسے بائن ہو جائیں اور چاہیں تو آپ کو اختیار کرلیں۔امام مالک کہتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اختیار دیتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ اس کی بیوی اس سے بائن نہ ہوا اور جب بیوی اس اختیار کو قبول کر لیتی ہے تو اس کا بھی یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ اس سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتی۔