ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 164 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 164

14N وجہ اختلاف فریق اول کے نزدیک عدت طلاق کے احکام میں شمار ہوتی ہے۔اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عدت نکاح کے احکام میں شمار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر طلاق بائن ہو۔اور خاوند کو رجوع کا اختیار نہ ہو تو اس طلاق کی عدت کے درمیان وہ مطلقہ کی حقیقی بہن سے شادی نہیں کر سکتا۔کیونکہ جب تک اس کی عدت نہ گزر جائے اس وقت تک وہ اس کے نکاح میں ہے اس لئے اس دوران میں وہ اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔اور اسے دوسری طلاق دے سکتا ہے۔پس جس کے نزدیک عدت نکاح کے احکام میں سے ہے اس کے نزدیک ضلع کے بعد طلاق پڑ جاتی ہے۔اور جس کے نزدیک عدت طلاق کے احکام میں سے ہے اس کے نزدیک ضلع کے بعد طلاق نہیں پڑتی۔دوم - جمہور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ خلع کے بعد خاوند کو عدت میں رجوع کا اختیار نہیں ہے۔سعید بن مسیب اور ابن شہاب نے اس سے اختلاف کیا ہے ان کے نزدیک اگر خاوند رجوع کرے تو بیوی اپنا دیا ہو ا دل واپس لے سکتی ہے سوم جمہور فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ خلع کے بعد عدت کے اندر فریقین باہمی رضامندی سے جدید نکاح کر سکتے ہیں لیکن متاخرین کے ایک گروہ کے نزدیک فریقین یا کوئی اور شخص عدت کے اندر نکاح نہیں کر سکتا۔وجہ اختلاف ایک گروہ کے نزدیک ضلع کے بعد عدت میں نکاح نہ کرنا۔ایک قسم کی عبادت ہے کیونکہ مطلقہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں عدت گزاررہی ہے دوسرے گروہ کے نزدیک ضلع کے بعد عدت میں نکاح نہ کرنا عبادت نہیں ہے بلکہ اس کا باعث یہ ہے کہ اس طرح بیوی کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے کیونکہ وہ ضلع کے عوض کچھ رقم ادا کر چکی ہے یا اپنے مطالبات ترک کر چکی ہے۔پس جب وہ خود رضامند ہو جائیں تو اس صورت میں ان کے دوبارہ نکاح میں کوئی حرج نہیں ہے۔چہارم۔اگر خاوند اور بیوی میں بدلی ضلع کی مقدار میں اختلاف ہو تو امام مالک او