ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xix of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xix

عبداللہ بن عبد الحکم- امام صاحب کے ان شاگردوں کا ذکر جابجا ابن رشد کی کتاب بدایۃ المجتہد میں آتا ہے۔اس وقت امام مالک کے تعلدین کا سرمایہ علی مونہ ایری جسے آپ کے شاگر بہنوں نے مرتب کیا ہے۔امام مالک اپنی رائے کے اظہار میں کسی کے جاہ و جلال یا کسی کی تہدید و ترہیب سے ہرگز نہ ڈرتے تھے۔اور اپنے ایمان و عقیدہ کی خاطر مصائب زمانہ کو بری صبر و استقلال سے برداشت کرتے تھے۔یہ عباسی خلیفہ منصور کا زمانہ تھا۔لوگ اس وقت خلیفہ سے باطن ہو چکے تھے۔اور محض فتنہ و فساد کے خوف سے یا لالچ میں آکر بہیت کرتے تھے۔اور بعد میں بغاوت پر آمادہ ہو جاتے تھے۔اس صورت حال کے تدارک کے لئے تعلیفہ نے بویت میں یہ الفاظ ڑھا رہے کہ اگر میں دل سے بیعت نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق۔امام مالک نے اس پر یہ فتوے دیا۔کہ یہ تو جبری طلاق کی ایک قسم ہے۔اور جبری طلاق واقع نہیں ہوتی۔امام مالک کو مجبور کیا گیا۔کہ وہ اس فتوے کو واپس لے لیں۔لیکن آپ نے اس فتوے کو واپس لینے سے انکار کر دیا چنانچہ آپ کو اس کی پاداش میں کوڑوں کی سنڈ دی گئی۔جو آپ نے نہائت صبر و استقلال سے برداشت کی ہے علم طور پر جب آپ کو کسی جزئی مسئلہ کے متعلق علم نہ ہوتا۔تو اس کے متعلق دریافت کرنے والے کو آپ صاف کہ دیتے کہ لا ادري " میں نہیں جانتا۔امام اب کے شاگرد ابن ہب کہتے ہیں کہ اگر میں امام کی کردا ادری بجھتا تو شائد کتنی تختیاں بھر جاتیں۔مان کی مذہب کا منبع مدینہ ہے یہ پورے حجاز میں پھیل گیا۔لیکن بعد میں صرف مغربی فہرست این تقدیم مطبوعہ مصر منه 16