ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 145 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 145

۱۲۷۵ تین طلاقوں کو ایک طلاق ہی سمجھا جائے گا۔کیونکہ قرآن مجید کے احکام سے یہ معلوم ہوتا ہے۔کہ طلاق کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے بعد عورت عدت گزارے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِي إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (طلاق ع) اور اس عدت کی غرض اللہ تعالٰی نے یہ رکھی ہے کہ تا اس عرصہ میں ان دونوں کے درمیان مصالحت کی کوئی صورت پیدا ہو جائے اور خاوند رجوع کرلے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا تَدْرِي لَعَلَ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ آمرا یعنی اے طلاق دینے والے تجھے معلوم نہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ اس واقعہ کے بعد کچھ اور ظاہر کردے اور اسی طرح اس کے بعد فرماتا ہے۔وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَهُ مَخرجا۔یعنی جو شخص اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرے گا اللہ تعالے اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال دیگا۔اگر ایک وقت میں تین طلاقوں کا حکم یہ ہو کہ وہ تین علیحدہ علیحدہ طلاقوں کے برابر ہیں تو پھر اس کے بعد خاوند کے لئے رجوع کا کوئی موقعہ باقی نہیں رہتا۔اور یہ امر اللہ تعالیٰ کے منشار کے بالکل خلاف ہے۔چنانچہ نسائی کی ایک روایت سے بھی یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی یہ ناپسندید و فعل ہے اور قرآن مجید کے منشاء کے خلاف ہے۔روایت یہ ہے :- عن محمود ابن لَيْهِ قَالَ اخَيرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْر أَحَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيفَاتٍ جَمِيعًا فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ آيَلْعَبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ۔محمود بن لبید سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو آٹھی تین طلاقیں دی تھیں۔اس پر آپ نے ناراضگی کی حالت ہیں فرمایا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلتا ہے اور ابھی تک میں تم لوگوں میں موجود ہوں۔دنسائی باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو کی کے زمانہ میں اسی کے مطابق عمل ہوتارہا ہے لیکن حضرت عمری کے زمانہ میں جب بعض لوگوں نے طلاق کے معاملہ میں نیک نیتی کو چھوڑ کر شرارت کی راہ اختیا کر لی اس وقت حضرت عمر نے تعزیرا اس حکم کو نافذ فرمایا کہ آیندہ اکٹھی تین طلاقوں کا حکم علیحدہ علیحدہ نین طلاقوں کے برابر ہو گا۔چنانچہ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ كان الطلاق عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرِ وَ سَنَتَيْنِ مِن خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرَ مِنَ الخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ - قدِ استَعْجَلُوا في أمر كانَتْ لَهُمْ فِيهِ أنا لا فَلَوْا مُضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ؟ فَامْضَاهُ عليم مسلم باب طلاق الثلاث) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کی خلافت کے زمانہ میں اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک ایک وقت میں تین طلاقوں کا حکم ایک طلاق کے برابر تھا اس کے بعد حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے معاملہ میں جس میں ان کے لئے نرمی کا حکم تھا جلد بازی کی ہے پس ہمارا ارادہ ریشه ها شبه دوم (۱۳)