ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 146
۱۴۶ دوسرا باب طلاق سنت اور طلاق بدعت میں فرق علماء کا اس پر اجماع ہے کہ طلاق سنت وہ ہے جو تعلقات زوجیت قائم کرنے کے بعد صرف ایک طلاق کی صورت میں دی جائے۔اور یہ طلاق اس طہر میں دی گئی ہو جس میں اس سے مجامعت نہ کی گئی ہو۔وہ طلاق جو حیض کی حالت میں دی ہو یا ایسے طہر میں دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو وہ طلاق سنت نہیں کہلاتی۔یہ اجماع حضرت ابن عمرہ کی اس روایت کی بنار پر ہے :۔أَنَّهُ طَلَقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ مُرُهُ فَلْيُرَاجِعُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قبل أنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْحِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ اس باب میں تین امور میں اختلاف کیا گیا ہے۔طائفتی بغیر رضا ہا) کہ ہم اس کے مطابق اس کو جاری کر دیں۔چنانچہ آپ نے اس کے مطابق حکم جاری کر دیا۔اس روایت کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں بھی اکھٹی تین طلاقوں کو ایک طلاق کے برابر ہی سمجھا جاتا تھا لیکن بعد میں بعض لوگوں کی خرابی کی بناء پر تعزیرا اس حکم میں تبدیلی کرنی پڑی۔اپس اس عارضی تبدیلی کی وجہ سے اس حکم میں کوئی مستقل تبدیلی کرنا شریعت کے منشاء کے خلاف ہے۔ہاں اگر کسی وقت پھر حالات کی مجبوری کی وجہ سے اس میں تبدیلی کرنی پڑے تو حکومت یا مذہبی راہنما اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔لے ترجمہ :۔حضرت ابن عمر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی اس پر آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے حضرت عمرہ کو ارشاد فرمایا کہ اپنے بیٹے کوحکم دو کہ وہ رجوع کرے تا کہ اس کے بعد وہ ظاہر ہو پھر حیض آئے پھر طاہر ہو۔اس کے اگر وہ چاہے تو اپنے پاس روکے رکھے اور چاہے تو مجامعت سے قبل طلاق دے کیونکہ یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بیویوں کو طلاق دی جائے تاکہ وہ عدت گزاریں۔