ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xvi of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xvi

۔کی ہمدردیاں ابراہیم کے ساتھ تھیں۔کیونکہ وہ بہت بڑے عالم تھے اور علماء و فقہاء کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔اتفاق سے ابراہیم کو شکست ہوئی۔اور انہوں نے مصری کم نہائت دلیری کے ساتھ لڑ کر جان دے دی۔اس مہم سے فارغ ہو کر خلیفہ متصور نے امام ابو حنیفہ کو طلب کیا جب آپ دربار میں پیشین ہوئے تو منصور نے دریافت کیا کہ آپنے کس سے علم کی تحصیل کی۔آپ نے اپنے استادوں کے نام بتائے۔جن کا سلسلہ شاگردی بڑے بڑے صحابہ تک پہنچتا تھا۔منصور نے آپ کے لئے قضاء کا عہدہ تجویز کیا لیکن امام صاحب نے کسی سرکاری عہدہ کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا۔منصور نے غصہ میں آکر کہا کہ تم جھوٹے ہوں۔اس پر امام صاحب نے جواب دیا اگر میں چھوٹا ہوں۔تو پھر اس میں کیا شک ہے۔کہ میں عہدہ قضا کے قابل نہیں۔کیونکہ جھوٹا شخص قاضی مقرر نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ آپ نے اس کے لئے یہ وجوہات بھی پیش کیں کہ میں کی نسل نہیں ہوں، اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار گزرے گی۔نیز مجھے درباریوں کی تعظیم کرنی پڑے گی۔اور یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔اس کے ساتھ ہی حالات ایسے ہیں کہ شخصی حکومت میں پوری آزادی سے فرائض منصبی کو اور انہیں کیا جاسکتا۔اس پر بھی منصور نہ مانا اور قسم کھائی کہ نہیں یہ عہدہ ضرور قبول کرنا پڑے گا۔امام صاحب نے بھی قسم کھائی کہ میں ہرگز قبول نہیں کروں گا۔چنانچہ آپ کہ قید کر دیا گیا۔اور بالآخر قید خانہ میں ہی آپ کو زہر دیگر مروا دیا گیا۔آپ کے شاگرد آپ کے شاگردوں میں سے سب سے زیادہ مشہو ر چار ہیں۔(۱) ابو یوسف (۲) ز فرین بدیل بن قیس (۳ محمد بن حسن (ام حسن بن زیاد - انہی چانوردی وام کے ذریعہ حنفی مذہب دنیا میں پھیلا۔۱۴