ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 115 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 115

۱۱۵ قیاس یہ ہے کہ اس خاوند کی غیر حاضری کی وجہ سے بیوی کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ایلاء یا مرد کے عنین ہونے کے مشابہ ہے اس لئے اس صورت میں عورت کو اختیار ہونا چاہیئے۔چاہے تو وہ اس مرد سے وابستہ رہے اور اگر چاہے تو علیحدگی حاصل کر کے عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرے۔امام مالک کے نزدیک مفقود کی چار قسمیں ہیں۔(۱) جو اسلامی حکومت میں مفقود الخبر ہو۔(۲) جو کھار کے ساتھ جنگ میں مفقود اخیر ہو۔(۳) جو کفار کے ملک میں جاکر مفقود الخبر ہو۔(ہی) جو مسلمانوں کے ساتھ باہم جنگ میں مفقود الخبر ہو۔ان میں سے جو کفار کے ملک میں جاکر مفقود الخبر ہو اس کے متعلق تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ اس کا حکم ایک قیدی کی مانند ہے۔یعنی اسکی بیوی اس کے عقد میں رہے گی اور اس کا مال اس وقت تک تقسیم نہیں ہو گا۔جب تک اسکی یقینی موت کا علم نہ ہو جائے وہ شخص جو مسلمانوں کے ساتھ باہم جنگ میں مفقود الخبر ہو۔امام مالک کے نزدیک اسے مقتول تصور کیا جائے گا اور اسکی بیوی کسی انتظار کے بغیر عدت گزار کر آزاد ہو جائے گی۔امام مالک کا ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ میدان جنگ کے قرب وبعد کے لحانا سے اس کی واپسی کا انتظار کرے گی اور یہ مدت زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے۔اس کے بعد وہ عدت گزار کر آزاد ہو جائے گی۔و شخص جو کفار کے ساتھ جنگ میں مفقود الخبر ہوا ہو اس کے متعلق امام مالک کے چار اقوال نقل کئے گئے ہیں۔(۱) وہ قیدی کی مانند سمجھا جائے گا۔(۲) ایک سال کے بعد اسے مقتول تصور کیا چائے گا۔سوائے اس کے کہ وہ جگہ ایسی ہو جہاں عام حالات میں اس کی خبر مخفی نہ رہ سکتی ہو۔ایسی صورت میں اس کا حکم اس مفقود الخبر کی طرح ہو گا جو مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں عدم پتہ ہوا ہو۔